My Writings: expressions over time: انشائیہ

A collection of stories , travelogues , and essays in Urdu and English languages

Read The Best of Best !!

Showing posts with label انشائیہ. Show all posts
Showing posts with label انشائیہ. Show all posts

Sunday, May 27, 2018

آکاش پربت اور چاندنی

8:50:00 AM 0
آکاش پربت اور چاندنی

آکاش پربت اور چاندنی

بہت عرصہ پہلے ایک سانحے نے مجھے جذباتی تنا ؤ کا شکار کر دیا تھا۔ انہی دنوں ایک ہل سٹیشن پر جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں قدرت کے قرب نے میرے اندر کے احساسات کے نازک تاروں میں جمال رب عظیم کے پیش قیمت موتی پرو دیے۔ پھر تویوں ہونے لگا کہ میرے من کی تمام کدورتیں دھلنے لگیں ۔ نفرت کی بھٹی میں میرا تن بدن  جل کر خاکستر ہوا ہی چاہتا تھا ۔ لیکن نجانے کیسے خیالات کی رعنائیوں کی آ ماجگاہ بن گیا۔شاید یہ سب کچھ وہاں کے نیلے شفاف آکاش ،دلکش ، حسین ،پربتوں  اور میٹھی مدھر  چاندنی کا حیرت انگیز کارنامہ تھا۔
فطرت کی ضیاء کاریوں نے کبھی نہ کبھی آپ کی ذات کے بند در بھی ضرور کھو لے ہوں گے ۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گی کہ حسین نظارے ایک ماہر نفسیات کی طرح دھیرے دھیرے ھماری روح کے زخموں پر پھائے رکھتے ہیں۔  یہ نہ ہوتا تو روز و شب کی مصروفیات کے جنجال سے گبھرا کر خلق خدا شہروں سے دور پر فضا مقامات کی آغوش میں کیوں بھاگتی۔ ان دنوں میں میں بے حد پریشان اور اداس رہا کرتی تھی۔ امید کے سارے دیپ ایک ایک کر بجھ چکے تھے۔ ایسے میں اس ہل اسٹیشن کی ہر صبح سورج کی پہلی کرنیں اپنے پنکھ پھیلائے چلی آتیں ۔اونچے پہاڑوں پر ہرے بھرے پیڑ لہلہا کر اور گیت گا کر ایک نئے دن کا استقبال کرتے۔  شام کو ہوٹل کی بالکونی میں چودھویں کا چاند اپنی نرم و نازک کرنیں میری جانب بھیجا کرتا۔ ان کرنوں کی اٹھکیلیوں نے آ خرکار میرے غم کی گھنیری چھاؤں میں بسیرا کر ہی لیا۔

پھر یوں ہونے لگا کہ جب بھی میں ہوٹل سے باہر  چہل قدمی کےلییےنکلتی تو کسی گیت کے بول میرےلبوں پر ہوتے ۔ دل ہی دل میں پربتوں کے حسن کے لیئےدعائیں مانگتی۔ کیونکہ ان کی جادوگری نے میرے اندر کے اجڑے موسموں میں بہار کے پھول کھلا د یئےتھے۔
آج بھی جب راہ حیات میں کہیں چلتے چلتے کانٹے پیروں کو لہولہان کر دیتےہیں تو اس ہل اسٹیشن کا آکاش ، چاند اور پربت میرا غم بٹانے چلے آتے۔ آکاش کی سمت دیکھتی ہوں تو مجھےیہ اپنی بلندیوں کی طرف بلاتا محسوس ہوتا ہے۔ مجھے اس کے اعلی ظرف پر حیرت ہوتی ہے۔ کس قدر بلند حوصلگی سے اس نے اپنے دامن میں بے شمار ننھے منھے تاروں کو جگہ دے رکھی ہے۔ اسی دامن میں جہاں سورج کا رعب وجلال ہے تو وہیں پر چاند بھی اپنی تمام تر معصومیت کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ گویا ذندگی کے بے شمار رنگ ہیں۔ کبھی یہ تاباں ہے تو کبھی ہراساں۔ ہمیں اس کے ہر لمحے کے ہر حصے میں حوصلے کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیئے۔بلکہ پربتوں جیسی سختی کے ساتھ اپنے ارادوں پر قائم رہنا چاہیئے۔ تبھی ہماری دنیاؤں کے چاند مسکراتے رہیں گے۔کیونکہ چاند کے چہرے پر مسکراہٹوں کی کشید ہمارے اپنے خون جگر سے ہوتی ہے۔ جیسے چمن میں گلابوں کے گل خوں رنگ مالی کی محنتوں کا اعجاز بن جایا کرتے ہیں۔یہی وہ پیغام ہے جو قدرت کے انمول شاہکار ہمیں دیتے نظر آتے ہیں۔


Sunday, May 29, 2016

خواہش

8:23:00 PM 0
خواہش

خواہش من آنگن کا گلاب ہے- یہ رتجگوں کی مانند آنکھوں میں اترتا عذاب بھی ہے-اس کی کسک تڑپاتی ہے –ستاتی ہے اور پھر لہو گرما کر شاہین کے لپکنے جھپکنے کا بہانہ بن جاتی ہے- خواہش کے وجود کو اگر ہم اپنے جذبوں سے الگ کر دیں تو ذندگی کو متحرک اور رواں دواں رکھنے کا کیا جواز رہ جائے گا؟
 گزرتے لمحوں میں خواہش ہمارے سنگ سنگ رہتی ہے- زندگی کی ہما ہمی کی طرح اس کے بھی کئ  روپ ہیں- گویا ہما رے اردگرد کی نیرنگی میں خواہش گونا گوں اضافہ کرتی رہتی ہے- کبھی محبت بن کر ایک سریلے نغمے میں ڈھل جاتی ہے- پھر یہ نغمہ جو بھی سنتا ہے اس کے دل میں کومل جذبے چٹکیاں لینے لگتے ہیں- موسمِ بہار کی آمد کے ساتھ ہی کوئل کی میٹھی بولیوں میں ہماری خواہشات کی تانیں بھی رچ بس جاتی ہیں- قدرت کا فنکار ہاتھ نظاروں میں رنگ بھرنے لگتا ہے- ارد گرد پھیلا یہ حسنِ دلنواز ہمارے اندر کے موسم کو نیا عنوان دے ڈالتا ہے- وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ موسمِ خزاں کی پت جھڑ بھی شروع ہو چکی ہے- جہاں کہیں بھولوں کی مہکار تھی وہاں سرسراتے پتوں کے بیچ نفرت اور حسد کی دبی دبی چنگاریاں  اٹھ رہی ہیں – رئیس فروغ نے ایسے ہی کسی کربناک ماحول کی عکاسی کرتے ہوئے کہا ہے-
                                    سخت برہم تھیں ہوائیں پھر بھی
ریت پر پھول بنائے میں نے
میرے آنگن کی اداسی نہ گئی
روز مہمان بلائے میں نے
دھوپ نے اور جلایا توفروغ
اور کچھ پیڑ لگائے میں نے
بعض اوقات  اپنے ماحول کی بے چینی اور افسردگی کو محسوس کرتے ہوئے میرا دل چاہنے لگتا ہے کہ کاش خواہشات رنگ برنگے ننھے منے پرندے ہوا کرتیں- ہمارے گھروں کی منڈیروں پر بیٹھے ہو ئے یہ خوش رنگ پرندے میٹھی مدھر بولیاں بول کر ہمارا دل بہلایا کرتے- یا پھر رات کےاندھیروں میں دیپ پن کر ہمارے حوصلوں کو ِجلا دیا کرتے – اور ہونا بھی یوں
 چا ہیئے کہ خواہش  چراغِ راہ بنے- جہاں کہیں یہ بھڑکتا ہوا الاؤ بنی وہیں روح جل کر خاکستر ہوئ- اسی لیے بڑے بوڑھے کہتے ہیں کہ اپنی خواہشات کو بے لگام نہ چھوڑو-
خواہش جب نفس پر حاوی ہو جاتی ہے تو انسان گناہ کی دلدل میں پھنس جاتا ہے- ذہن خواہش کی بدولت مفلوج ہو جائے تو کم عقلی اور بد حواسی کے مظاہرے دیکھنے کو ملتے ہیں- یہی خواہش جب قلب کو اپنی طاقت سے زیر کرتی ہے تو بے چینی اور مایوسی  کے سا ئے انسان کا پیچھا کرتے ہیں –اگر میانہ روی سے کام لیا جائے تو زندگی سکون سے گزر سکتی ہے-
خواہش کے متعلق ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ بھی ہے کہ بعض اوقات نا آسودہ خواہشات انسان کو اندس سے ڈس لیتی ہیں- وہ جو  ایک توازن اور ہمہ جہتی کسی بھی شخصیت کی لیے ضروری ہوتا ہے وہ قائم رکھنا مشکل ہو جا تا ہے- یہی نا آسودہ خواہشات جب ہمیں بہت بے چین کرتی ہیں تو ہم آ نکھوں میں ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کرچیاں چھپائے نجومیوں اور عاملوں کے پاس جاتے ہیں- وہ ہمیں سبز باغ دکھا کر جمع پونجی سے بھی محروم کردیتے ہیں-انہی ناآسودہ تمناؤں کے پیچھے بھا گ بھاگ کر ہم اپنی راہ کھو دیتے ہیں- اور وہ جو بے ضرر سی چھو ٹی چھوٹی  خوشیاں ہماری راہ میں پھولوں کی پنکھڑیوں کی مانند بکھری رہتی ہیں، انہیں ہم اپنے قدموں تلے روند کر ایک سراب کے پیچھے بھاگتے چلے جاتے ہیں-

خواہش جب منزل سے ہمکنار ہوتی ہے تو ہماری خوشیوں کا جام تو لبالب بھر جاتا ہے لیکن نفس کی  بھوک کسی نئ نویلی آرزو کی چا ہت کو ابھار دیتی ہے- گویا اطمینانِ قلب کے لیے ضروری ہے زندگی  کے خوشگوار پل چن چن کر اپنے دامن میں بھر لیے جائیں- جب کبھی کوئ ناقابلِ حصول خواہش مچل مچل کر ہمیں اپنی جانب بلائے تو یہ خوشی بھرے لمحے شبنمی قطرے پن کر ہطارے نفس کی آگ کوبجھا دیں-

Sunday, February 21, 2016

مچان

1:39:00 PM 0
مچان



کاش که  وه سمجھ سکتی  که غرور و تکبرّ نےایک فرشتے کو شیطان بنا دیا تھا۔ لوگوں کے بارے میں منفی رآےٴ رکھنا اور انهیں خواه ما خواه موردِ الزام ٹهرانا کوئ اچھیّ بات نهیں۔ھم اچھےّ هونے کا ڈهونگ تو خوب رچاتے هیں لیکن دل ھی دل میں لوگوں پر نکته چینی سے باز  بهی نهیں آتے۔
اس نےکئ بار یه سنا هے که دنیا ایک مسافر خانه هے اور همارے اچھےّ اعمال  هی همارا زارِراه بن سکتے هیں۔ اسی بات کو لے کر اس کی کوشش یهی هوتی هے که دن کے آغاز سےهی اپنا دامن نیکیوں سے بھر لے۔


  1. پھر نجانے کیا ھوتا ھے که لوگوں کی مدد کرنےکے بعد وه تفاخر کے نشے میں چور هو کر خودپسندی کی ایک اونچی مچان پر بیٹھ پر جاتی۔ یهاں کی بلندی سے لوگوں پر ترس کھاتی اور اپنے آپکو بےحد سراهتی۔

بس یهی هم ٹهوکر کھا جاتے هیں ۔نیکیوں اور عبادتوں پر گھمنڈ هماری تمام ریاضتوں کو فنا کر دیتا هے۔تمام تعریفیں صرف اور صرف خدا کی هی ھیں-